نئی دہلی، 30؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) دنیا میں اسلام کی صحیح تشریح پیش کئے جانے اور اس کے ماڈرن پہلو کو اجاگر کرنے کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایسا مذہب ہے جو تمام مذاہب کے لئے امن، شانتی، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام لیکر آیا ہے، جس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے - جہاد اَنا کے خلاف ہونی چاہئے، انسان اور انسانیت کے خلاف نہیں -قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے آج یہاں انڈیااسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا-ہندوستان اور انڈونیشیا میں بین المذاہب رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں علما ء کا کردارکے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں انڈونیشیا کے قومی سلامتی مشیر اور نائب وزیراعظم پروفیسر ڈاکٹر محمد محفوظ ایم ڈی کی سربراہی والے اس وفد میں وہاں کے کئی علماء اور مذہبی رہنما شامل تھے -دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹرڈوبھال نے کہا کہ ہندوستان اورانڈونیشیا کے درمیان ثقافتی، اقتصادی، سیاحتی اور تجارتی شعبوں میں قدیم اور تاریخی رشتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی جمہوریت تنوع اور کثرت میں وحدت کے فلسفے پر قائم ہے - دونوں ملکوں کے علما ء اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان آج کے بین المذاہب مذاکرات دونوں کے رشتوں میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوں گے - مسٹرڈوبھال نے کہاکہ دونوں ملکوں میں ثقافتی، مذہبی اور تاریخی لحاظ سے کافی یکسانیت ہے -